آری[1]
معنی
١ - آرا کی تصغیر ہے۔ "ہرا بھرا درخت . کلہاڑی سے کاٹا گیا،آری سے چیرا گیا۔" ( ١٩١٢ء، سی پارہ دل، ٧٩:١ ) ٢ - جوتا سینے کا ایک اوزار (اصطلاحات پیشہ وراں، منیر لکھوی، 63)
اشتقاق
سنسکرت زبان کا اصل لفظ 'آر' ہے اور اس کا اردو مستعمل 'آرا' ہے اور اردو قاعدہ کے مطابق 'ا' گرا کر 'ی' بطور لاحقۂ تصغیر لگانے سے 'آری' بنا اور بطور اسم مستعمل ہے۔ سب سے پہلے ١٧٦٨ء میں برہنی کے ہاں مستعمل ملتا ہے۔
مثالیں
١ - آرا کی تصغیر ہے۔ "ہرا بھرا درخت . کلہاڑی سے کاٹا گیا،آری سے چیرا گیا۔" ( ١٩١٢ء، سی پارہ دل، ٧٩:١ )